605

بچوں کی خرابی کے کیا والد ین ذمہ دار ہیں ؟

مومنہ گیلانی (الائیڈ سکول)
انسان اشرف المخلوقات ہے اور جب سے اس دنیا میں آیا ہے اپنے وجود سے کسی نہ کسی طور دوسروں کی مدد کا خواہاں رہا ہے ۔
ارسطو کے بقول”انسان ایک معاشرتی حیوان ہے “یہ ایک ایسا حیوان ہے جس کے متعلق افلا طون نے کہا تھا کہ انسان ایک ایسی ریاست میں بسنے کا خواہش مند ہے جس کاو جود ہی نہیںلیکن جب سے اس دنیا میںانسا ن نے قدم رکھا ہے وہ ایک دوسرے کے حقوق کو بخوبی سرانجام دینے میں لگا ہو اہے ۔معاشرہ جو ارسطو کے بقول کچھ لوگوں کے مل کررہنے سے وجود میں آتاہے ۔ اسی معاشرے میں رہنے کیلئے انسان کو کچھ اصول و ضوابط کا پابند ہونا پڑتا ہے جن کی خلاف ورزی پر نہ صرف اس دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی جوابد دہ ہو نا پڑتا ہے ۔ اسی معاشرے میں سب انسان ملکر رہتے ہیں تو ایک دوسرے کے حقوق و فرائض سے آگاہی ہوتی ہے اور ان کو حتی الامکان پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن آج کی دنیا میں جہاں ہم بہت سی سہولیات سے آشنا ہیں وہیں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہمارے بچے جو ہمارے مستقبل کے معمار ہیں ان کیلئے پڑھائی کے علاوہ بہت سے ایسے لوازمات اور کھیل کے طریقے ایجا د ہوچکے ہیں کہ وہ بچوں کی تربیت پر بہت اثر انداز ہورہے ہیں۔ ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی اولاد معاشرے میںان کی پہچان بنے اور ان کا نام روشن کرے۔لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہاہے کہ آجکل معاشرے میں بچوں کیلئے ایسی گیمز آچکی ہیں کہ جوا ن کی تربیت پر بہت اثر انداز ہو رہی ہیں ۔
تربیت جس کا آغاز ماں کی گود سے ہوتا ہے اور ماں اپنے لخت جگر کو ہر طور پر خوش رکھنے کیلئے نہ صرف اپنے آرام کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کی ہرجائز و ناجائز خواہش پورا کرتی ہے جس کا اثر آج کل کے بچوںمیں ہمیں نظر آرہا ہے ۔ حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ ”اگر پھول کو زیادہ پانی دے دیا جائے تو وہ مرجھا جاتا ہے “ بالکل اسی طرح اگر بچوں کی تربیت بھی مخصوص انداز میں نہ کی جائے تو یاتو ان میں کمی رہ جاتی ہے یا وہ حد سے زیادہ بڑھ جاتے ہیں ۔جس کو برداشت صرف والدین کرتے ہیں کہ وہ ان کے جگر کا ٹکڑا ہے اس کی ہر بات کو سننا پڑتا ہے ۔
ہمارے معاشرے میں بچوں کی گیمز بچوںکو اپنے اثر میں لئے ہوئے کہ ہر بچہ گیم میں اپنے آپ کو چو ر تصور کرتا ہے ۔ اور پولیس اس کے پیچھے ہے ۔بچے یہ گیمز کھیل کر بہت خو ش ہوتے ہیں جبکہ چور بننا فخر نہیں بلکہ قابل ندامت چیز ہے ۔چوری کے علاوہ کچھ گیمز ایسی ہیں جس میں بچے ایک دوسرے کو مارنے کےلئے پر جوش ہیں، جبکہ ہمارے بچپن میں یہ تمام چیزیں ناگوار تصور کی جاتی تھیں اور ہمارے والدین ہمیں ان چیزوں کے قریب بھی بھٹکنے نہیں دیتے تھے۔اگر ان چیزوں کیلئے ہم ضد کرتے تھے تو والدین ڈانٹ دیتے تھے اور پھر ہماری مجال ہی نہیں ہوتی تھی کہ ان کے آگے دو بارہ اس چیز کا ذکر بھی کریں۔ لیکن آج کے دور میں بچوں کو ان چیزوں سے دور رہنے کا کہتے ہیں تو و ہ الٹا ہمیں ہی برے القابات جو کہ ان گیمز سے سیکھتے ہیں پکارتے ہیں ۔ اسطرح ان کی زبان بھی خرا ب ہور ہی ہے اور ذہن بھی ۔
حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ” اخلاق ایک دوکان ہے اورزبان اس کا تالا ، جب تالا کھلتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ دوکان سونے کی ہے یا کوئلے کی“۔
امام غزالی فرماتے ہیں کہ کسی کی پہچان علم سے نہیں بلکہ ادب سے ہوتی ہے کیونکہ علم تو ابلیس کے پاس بھی تھا لیکن وہ ادب سے محرم تھا ۔ امام غزالی کے اس قول کے ساتھ ہی ہمیں اپنے بزرگوں کی بات یاد آتی ہے جو ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ ” باادب با مُراد۔ بے ادب بے مراد“ جو ادب کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے اپنی مُراد پا لیتا ہے جبکہ جو بے ادب ہوتا ہے وہ اپنی مُراد کو حاصل نہیں کر پاتا۔ اسطرح والدین جو اس چیز کے ذمے دار ہیں کہ خود اپنے بچوں کو ایسی گیمز مہیا کرتے ہیں جس کے ذریعے نہ صرف ان کی تربیت متاثر ہورہی ہے بلکہ ان کی زبان بھی ۔اس طرح ہمارے مستقبل کے معمار جو کہ نہ صر ف ایک اچھی تربیت بلکہ ایک اچھی دنیا میں اپنے آپ کوچور بنانے اور قاتل تصور کرنے میں فخر محسوس کررہے ہیں ۔
میری اعلیٰ حکام سے گزارش ہے کہ خدارا ایسی گیمز کو معاشرے سے ختم کیا جائے جو بچوں کے ذہنوں پر برئے اثرات مرتب کرتی ہیں اور ملک میں اسلامی اقدامرکو فروغ دیا جائے اور ایسے والدین جو اس چیز کے ذمہ دار ہیںان کے نو نہالوں کو ان تصوراتی دنیا سے نکال کر حقیقی دنیا میں لایا جائے اور ایسے والدین کو بھی سزا دی جائے یا جرمانہ کیا جائے جو اس چیز کو ذمہ دار ہیں کہ ان کے بچے نہ صرف چور بلکہ قاتل بننے میں فخر محسوس کررہے ہوں ۔میں پھر اپیل کرتی ہوں کہ اس مسئلے کا فوری حل کیا جائے اور ملک کے قیمتی اثاثے کو تباہی کے دہانے سے نکال کر ملکی ترقی کی طر ف گامزن کیا جائے۔