209

چغتائی پبلک لائبریری جہاں مفت کتاب چائے اور بہترین ماحول فراہم کیا جاتا ہے

انٹر ویو: ضمیر آفاقی
رپورٹ: ایمن ضمیر
عکاسی، حافظ نوید
چغتائی پبلک لائبریری جہاں مفت کتاب چائے اور بہترین ماحول فراہم کیا جاتا ہے
چغتائی پبلک لائبریری کا تصور ڈاکٹر مریم چغتائی نے دیا اور اپنے والد کی اعانت سے اسے عملی جامہ پہنایا ،ریحانہ کوثر کنسلٹنٹ چغتائی پبلک لائبریری

چغتائی پبلک لائبریری نے اپنی “ہیومن لائبریری” کے ماہانہ سیشن کا انعقاد کیا ہے جس میں باصلاحیت اور بے شمار تجربات کی حامل شخصیات کو بطورانسانی کتاب پیش کیا جاتا ہے


لائبریری کا مقصد علم تک آسان اور مفت رسائی فراہم کرنا ہے۔ یہ پروجیکٹ 2013 میں شروع کیا گیا اور 2014 میں کتابوں کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل بھی شروع کر دیا گیا۔ اور اس وقت کوئٹہ سمیت تیرہ مقام پر لائبریرز موجود ہیں۔ یہاں ہر موضوع پر کتاب موجود ہے اس کے علاوہ بچوں کے لیے بھی الگ حصہ مختص کیا گیا ہے۔ جہاں وہ اپنے رجحان کے مطابق مطالعہ کر سکتے ہیں

لائبریری علم و آگہی اور تعلیم و تعلم کا مظہر و مرکز ہوتی ہے۔ قوم کو جہالت سے علم اور ظلمت سے نور کی طرف لے جاتی ہے۔ قوموں کی تعمیر و ترقی میں لائبریری اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اہل علم کسی ملک میں پائی جانے والی لائبریرز کو اس ملک کی ثقافتی ، تعلیمی اور صنعتی ترقی کا نہ صرف پیمانہ بلکہ قومی ورثہ قرار دیتے ہیں۔ ایسا نہیں کہ ہمارے ہاں کتابوں کی کمی ہے لیکن مسئلہ یہاں آتا ہے کہ یہاں کتب بینی کا شعور اجاگر کرنے کی کوشش ہی نہیں کی جاتی، جس سے ایک غیر مہذب معاشرہ جنم لیتا ہے۔ لیکن اسی معاشرے میں چند ادارے ایسے بھی ہیں جو شعور اجاگر کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ انہی چند اداروں میں ایک ادارہ چغتائی پبلک لائبریری بھی ہے۔ جس کی کنسلٹنٹ محترمہ ریحانہ کوثر پروگرام کی مہمان خصوصی تھیں۔ جو کہ اس نئے پروجیکٹ کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی ڈیجیٹلائزیشن کرنے اور کتاب بینی کے رجحان کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ چغتائی پبلک لائبریری بھی معاشرے میں تعلیم و آگہی اور تحقیق کو فروغ دینے میں اپنا موثر کردار ادا کر رہی ہے۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دور جدید میں انٹرنیٹ ، کمپیوٹر اور موبائل کے ہوتے ہوئے لائبریریوں کی زیادہ ضرورت نہیں رہی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ لائبریریوں کا کوئی نعم البدل نہیں۔ بس دور جدید کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے لائبریریوں کی سہولیات میں جدت لانے کی ضرورت ہے۔
چغتائی پبلک لائبریری علامہ اقبال کے فارسی کلام کو سمجھنے کے لئے ہفتہ وار کلاسز کا اہتمام بھی کرتی ہے۔ جس میں پروفیسر ڈاکٹر وحید الزمان طارق باقاعدگی کے ساتھ فارسی کلام کو فصیح و بلیغ انداز میں پیش کرتے ہیں ۔چغتائی پبلک لائبریری نے اپنی “ہیومن لائبریری” کے ماہانہ سیشن کا انعقاد کیا ہے جس میں باصلاحیت اور بے شمار تجربات کی حامل شخصیات کو بطورانسانی کتاب پیش کیا جاتا ہے۔
ہفت ر وزہ” سکول لائف “نے چغتائی پبلک لائبریری کے طریقہ کار اور فراہم کردہ سہولیات کے حوالے سے اس لائبریری کی ہیڈ مس ریحانہ کوثر سے مختصر بات چیت کی جو نذر قائین ہے۔
ہفتہ روزہ” سکول لائف“ اپنے میڈیا گروپ جس میں ویب چینلز (city press.tv)، اخبار اور سوشل میڈیا کا وسیع نیٹ ورک ہے کے ساتھ معاشرے میں ہونے والے والے اچھے کاموں کو عوام الناس کے سامنے لاتا ہے جس کا بنیادی مقصد لوگوں کے مسائل کو سامنے رکھنا اور ان لوگوں کے کام کو سراہنا ہے جو معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے خواہاں ہیں۔
ریحانہ کو ثر ریحانہ کوثرکنسلٹنٹ چغتائی پبلک لائیبریری ہیں آپ ماسٹرز ان لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنسز (پنجاب یونیورسٹی ) ایم فل لائبریری سائنسز (منہاج یونیورسٹی) سے فارغ التحصیل ہیں یہ اپنے پورے تعلیمی کیریئر میں قائدانہ اور ادبی کردار کی حامل رہی ہیں آپ لائبریری کے شعبے میں ایک جانی مانی شخصیت ہیں جو لائبریری کی جدت، آٹومیشن اور ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے خصوصی مہارت رکھتی ہیں آ پ لائبریری کے انتظامی امور کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں آپ نے مریم چغتائی صاحبہ کے خواب کو منصہ شہود تک لانے میں چغتائی لائبریری کے قیام میں موثر اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ آپ پر خلوص جذبوں کے ساتھ اپنے شعبے کے ساتھ جڑے ہوئے تمام افراد کو سکھانے کے ساتھ خود بھی نیا سیکھنے اور جدید تعلیم کو جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور اپنی ٹیم کو بااختیار بنانے میں یقین رکھتی ہے۔ آپ مریم  چغتائی صاحبہ اور ڈاکٹر اختر سہیل صاحب کے ”کتاب ہر ایک لئے خواب“ چغتائی لائبریریز کا ایک وسیع نیٹ ورک ملک کے طول و عرض میں قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ جس کا مقصد کتاب دوستی کو فروغ دینا ہے اس وقت چغتائی لائبریری کنال پارک کے سنگم واقع گلبرگ بر لب نہر جیل روڈ میں تقریبا تیس ہزار کے قریب کتب موجود ہیں جو علم کے متلاشیوں کی روح کو سیراب کر رہی ہیں، اس لائبریری میں چھ سال کے بچے سے لیکر نوجوان اور بزرگوں کو داخلے کی اجازت ہے یہاں بیک وقت دو سو افراد بیٹھ سکتے ہیں جنہیں مفت چائے بھی فراہم کی جاتی ہے۔ چغتائی لیب والوں کا علم کے فروغ اور کتاب دوستی کے حوالے سے یہ ایک انتہائی احسن قدم ہے جس کی نہ صرف توصیف و تعریف کی جانی چاہیے بلکہ ان کے اس عمل سے دوسروں کو بھی ترغیب ملنی چاہیے کہ وہ ملک کے طول و عرض میں گلی محلے کے لیول تک لائبریرز کا قیام عمل میں لائیں تاکہ لوگوں کو مفت کتاب پڑھنے کی سہولت میسر ہو۔
مس رٰیحانہ کوثر نے چغتائی لائبریری کے بارے ”سکول لائف“ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چغتائی پبلک لائبریری کا تصور ڈاکٹر مریم چغتائی نے دیا اور اپنے والد کی اعانت سے اسے عملی جامہ پہنایا، لائبریری کا مقصد علم تک آسان اور مفت رسائی فراہم کرنا ہے۔ یہ پروجیکٹ 2013 میں شروع کیا گیا اور 2014 میں کتابوں کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل بھی شروع کر دیا گیا۔ اور اس وقت کوئٹہ سمیت تیرہ مقام پر لائبریرز موجود ہیں۔ یہاں ہر موضوع پر کتاب موجود ہے اس کے علاوہ بچوں کے لیے بھی الگ حصہ مختص کیا گیا ہے۔ جہاں وہ اپنے رجحان کے مطابق مطالعہ کر سکتے ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ چغتائی پبلک لائبریری نے اخوت کے ساتھ ایک مشترکہ پروجیکٹ کا آغاز کیا ہے، جو کہ “لائبریری آن وہیل” کے نام سے ہے جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک کتابیں پہنچانا ہے۔ لوگ اس کے ذریعے خاص مدت تک کتابیں ادھار منگوا سکتے ہیں۔ سکولوں میں بھی یہی طریقہ کار استعمال ہوتا ہے انہیں کتابوں کے ساتھ لائبریرین کی سہولت بھی فراہم کی جاتی ہے جو بچوں کو “سٹوری ٹیلینگ” کر کے سناتی ہیں۔
علاوہ ازیں پاکستان میں پہلی بار ڈاکٹر اختر سہیل چغتائی کی جانب سے ایک نیا پروجیکٹ ” ہیومن لائبریری” یکم جنوری، 2022 کو متعارف کروایا گیا جس کی بنیاد دراصل ڈین مارک میں 2002 میں رکھی گئی۔ اور اب تک 80 سے زائد ممالک میں یہ لائبریری متحرک ہے۔ اس پروجیکٹ کے تین بڑے مقاصد ہیں جن میں تعصب کا خاتمہ، لوگوں کے زندگی کے تجربات کو شیئر کرنا، اور لوگوں میں شعور بیدار کرنا اور انکی تربیت کرنا ہے۔
چغتائی لائبریریز اور کہاں کہاں واقع ہیں کے بارے بات کرتے ہوئے انہوں کہا کہ چغتائی پبلک لائبریری کا قیام ضلع ننکانہ صاحب میں کیا جاچکا ہے اور ان کی کوشش ہے کہ مستقبل میں مختلف ضلعوں میں بھی پبلک لائبریری کا قیام کیا جائے۔آخر میں ریحانہ کوثر نے عوام الناس کو دعوت دی کہ وہ آئیں اور اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں کیونکہ ان کے خیال میں ہمارے معاشرے میں جب تک کتب بینی کا شوق پیدا نہیں ہوگا تب تک ہمارا ملک اور معاشرہ بھی ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں نہیں شامل ہو سکے گا۔