783

”سکول لائف“ کے مہمان شہد صفت طارق مسعود یاسین کی زندگی کی خوبصورت باتیں، یادیں اور واقعات


انٹر ویو: ضمیر آفاقی
معاونت: حنیف انجم
خضر احمد
عکاسی: تنویر احمد
کامیابی حاصل کرنی ہے تو والدین کی عزت، احترام فرماں داری کے ساتھ خدمت کے جذبوں کو کبھی مرنے نہ دیں،یڈیشنل آئی جی ٹریننگ اینڈ ریکروٹمنٹ طارق مسعود یاسین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
”سکول لائف“ کے مہمان شہد صفت طارق مسعود یاسین کی زندگی کی خوبصورت باتیں، یادیں اور واقعات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسروں کاساتھ دینے والے بنیں لینے والے نہیں یہ تربیت کا بہت اہم حصہ ہے اپنی چیزیں دوسروں کے ساتھ شئیر کر کے خو دغرضی کے لیبل سے بچیں ،دینے والا ہاتھ ہمیشہ بڑا ہوتا ہے، اس سے محبت اور دوستوں کی تعداد بڑھتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں مرضی جس مرضی عہدے پر پہنچ جائیں رزق حلال کو اولین ترجیح دیں اس میں بہت برکت اور سکون ہے، اللہ کو تکبر پسند نہیں ہے جھوٹ سے بچو اور سچ بولو دوسروں کا خیال رکھو یہ باتیں انسان کی تربیت کا اہم حصہ ہونی چاہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دن کچھ لوگ نعرے لگاتے ہوئے ہمارے سکول میں داخل ہوگئے وہ ایوب کے خلاف نعرے لگارہے تھے ہم برامدے میں بیٹھے تھے کہ ہمارے ٹیچرز نے ہمیں وہاں سے اٹھا کر ہمیں کمروں میں بھیج دیا کہ کہیں ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچ جائے
………………….

ایڈیشنل آئی جی ٹریننگ اینڈ ریکروٹمنٹ طارق مسعود یاسین ایک شہد صفت انتہائی مشفق مہربان محبت کرنے والے وضع دار پولیس آفیسر ہیں انہیں جو ایک بار ملتا ہے وہ بار بار ملنے کی خواہش رکھتا ہے ایسے آفیسر کسی بھی ڈسپلن فورس کا روشن چہرہ اور سفیر ہوتے ہیں اس بار ہفت روزہ” سکول لائف کے سب سے پسندیدہ اور معروف سلسلے ”میری سکول لائف“ کے مہمان ہیں وہ اس مقام تک کیسے پہنچے ؟ اور کامیابی کی منازل کیسے طے کیں جسے سوالوں کے جواب سے ہم اپنے آج کے طلباءکو آگاہ کریں گے ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے آج کے طلباءکے لئے طارق مسعود یاسین جیسے باکردار آفیسر رول ماڈل ہیں جن کی زندگی کو اپنے لئے مشعل راہ بنا کر کامیابی کی منازل طے کر سکتے ہیں۔ طارق مسعود یاسین نہایت نیک نام آفیسر ہیں۔پنجاب اور و فا ق میں کئی اہم ذمہ داریوں پر فائض رہ چکے ہیں۔نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد میں تعیناتی کی وجہ سے پولیس کے بے شمار افسران ان کے شاگرد ہیں اوران کی سرکردگی میں کام کرنا فخر سمجھتے ہیں۔ وہ پنجاب میں سرگودھا،خوشاب،جھنگ،مظفرگڑھ میں بطور ایس ایس پی جبکہ اے آئی جی ٹریننگ،اے آئی جی اسٹبشلمنٹ،اے آئی جی انوسٹی گیشن کے علاوہ ریجنل پولیس آفیسر(آر پی او) گو جر ا نو ا لہ ، فیصل آباد،ملتان رہ چکے ہیں۔وفاق میں بطور آئی جی اسلام آباد کے علاوہ آئی بی میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں ان دنوں لاہور میںایڈیشنل آئی جی ٹریننگ اینڈ ریکروٹمنٹ کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔طارق مسعود یاسین پولیس نوجوانوں اور آفیسر کی تربیت کے حوالے سے جو فرائض سر انجام دے رہے ہیں اس کی آج اس ادارئے کو بہت ضرورت ہے کیونکہ پولیس ایک ایسا ادارہ ہے جس سے عوام الناس کا تعلق لاز و ملزوم ہے اور محکمہ پولیس سے عوام کو شکایات بھی بہت ہیں خصوصاً ان کے روئیوں کے حوالے سے ،انہی روئیوں کی درستگی اور اصلاح طارق مسعود یاسین ایک قومی فریضہ سمجھ کر ادا کر رہے ہیں۔
طارق مسعود یاسین کا تعلق ضلع فیصل آباد کی تحصیل سمندری سے ہے فیصل آباد آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ یہ ضلع، فیصل آباد، سمندری، جڑانوالہ، تاندلیانوالہ اور چک جھمرہ کی پانچ تحصیلوں پر مشتمل ہے۔موجودہ دور کی جن اہم علمی و ادبی شخصیات کا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ ان میں ڈاکٹر محمد باقر، باری علیگ، حافظ لدھیانوی، ستار طاہر، ظہور عالم شہید، نصرت صدیقی ، افضل احسن رندھاوا، پروفیسر ڈاکٹر محمد اختر چیمہ، شفقت حسین شفقت، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، ڈاکٹر سعید اختر وارثی وغیرہ کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔سائنس کے شعبے میں بین الاقوامی شہرت اختیار کرنے والے سائنسدان ڈاکٹر سعید اختر د±رّانی بھی فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ سائنسی خدمات کے صِلے میں ستارئہ امتیاز سے نوازا گیا۔ یہاں کے ایک اور سائنسدان ڈاکٹر ایم اے عظیم ہیں۔آرٹسٹ ضیاءمحی الدین، گلوکار مرحوم نصرت فتح علی خاں، راحت فتح علی خاں اور فلمی اداکارہ ریشم کا تعلق بھی فیصل آباد سے ہے۔ مرحوم نصرت فتح علی خاں نے قوالی اور مخصوص گائیگی میں منفرد مقام حاصل کیا اور بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔اسی نابغہ روزگار ہستیوں کے شہر سے نسبت رکھنے والے طارق مسعود یاسین سے ان کی” سکول لائف“ کی خوبصورت باتیں، یادیں اور واقعات پر گفتگو نذر قارئیں ہے۔
اپنی ابتدائی تعلیم اور سکولنگ کے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے طارق مسعود یاسین نے بتایا کہ میری پیدائش سمندری کے ایک گاوں 202 گ ب میں ہوئی میرے والد صاحب محکمہ ایری گیشن میں تھے تو جہاں ان کی پوسٹنگ ہوتی ہم بھی ان کے ساتھ ہوتے لیکن جب بھی وہ گاوں آتے تو وہ مجھے ہمارے گاوں میں جو سکول تھا وہاں صبح کے وقت چھوڑ آتے یوں کہا جاسکتا ہے کہ میری ابتدائی تعلیم جسے سیکھنے کا نام دیا جاسکتا ہے کا آغاز یہاں سے ہی ہوا یہ کوئی سن تریسٹھ کی بات ہو گی اور میری عمر کو ئی دو اڑھائی برس ہو گی یہ سکول ہمارے لئے بہت اہم تھا کیونکہ صبح کے وقت یہاں کلاسیں ہوتی اور شام کو گاوں کے بڑے بوڑھوں کی محفل جمتی دو کمروں کا سکول جس میں ایک نلکا لگا تھا چند گھنے درخت تھے ا ور ساتھ ہی ایک تالاب جس میں کنول کے پھولوں کی دل آویز خوبصورتی نگاہوں کو خیرہ کرتی تھی، میں سکول کے ماحول کا مشاہدہ کرتا بچے تختیاں سکھاتے ان پر لکھنے کا اپنا ہی ایک خوبصورت انداز تھا اور زمین پر ہی بیٹھ کر پڑھنا استائذہ کرام کے پڑھانے اور یاد کرانے کا انداز آج بھی بھلا لگتا ہے۔
والد صاحب کی ٹرنسفر میاں والی ہوئی تو ہم وہاں چلے گئے وہاں پر ایک سکول تھا جہاں میرے بڑئے بھائی نے جانا شروع کیا تو مجھے بھائی کے ساتھ بھیج دیا جاتا اس زمانے میں چھوٹی کلاسیں تو تھیں نہیں جس طرح آجکل ہیں اس سکول کو دیکھا مشاہدہ کیا وہ سکول بھی ہمارے گاوں کے سکول کی طرح سے تھا ٹوٹے پھوٹے کمرے ٹاٹوں پر بیٹھ کر پڑھتے ہوئے بچے،اس کے بعد ہم فیصل آباد میں انیس سو پینسٹھ میں آ گئے جس محلے میں ہم آئے وہاں پر ایک پرائیویٹ سکول تھا مجھے وہاں لے جاکر بٹھا دیا جاتا، لیکن میری باقائدہ سکولنگ کا آغاز ایم سی پرائمری سکول چوڑھ مہاجراں سے ہوئی اس سکول کے ساتھ میری بہت دلچسپ یادیں وابستہ ہیں۔یہاں پر تیسری چوتھی کلاس کے بچوں کو کلاس روم میں جبکہ ہمیں باہر کھلی جگہ پر بٹھا دیا جاتا تختی اور سلیٹ کا رواج تھا ہم وہاں بیٹھ کر پڑھتے جب چھٹی کا وقت ہوتا تو ہمیں کھڑا کر دیا جاتا اور اور پہاڑے سکھائے جاتے ایک دونی دونی دو دونی چار بڑا خوبصورت منظر ہوتا ۔ لیکن اس دور کا جو سب سے یاد گار واقعہ یاد ہے وہ تھا ایوب خان کے خلاف تحریک کا شروع ہونا ہمیں سیاست کے بارے کوئی آگاہی نہیں تھی لیکن ایک دن کچھ لوگ نعرے لگاتے ہوئے ہمارے سکول میں داخل ہوگئے وہ ایوب کے خلاف نعرے لگارہے تھے ہم برامدے میں بیٹھے تھے کہ ہمارے ٹیچرز نے ہمیں وہاں سے اٹھا کر ہمیں کمروں میں بھیج دیا کہ کہیں ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچ جائے اتنے میں ایک بڑے بچے نے مجھ سے میری تختی چھین لی اور کمرے کی کھڑکی جو شیشے کی تھی کو توڑ کر میری تختی اندر پھینک دی میں اپنی تختی کو اندر کمرے میںدیکھ رہا تھا مجھے اور تو کسی بات کی پرواہ نہیں تھی لیکن مجھے اپنی تختی کی فکر تھی آپ انداز لگائےں ایک چھوٹا سا بچہ پہلی دوسری کلاس کا اور اس سے کوئی اس کی تختی چھین کے لے جائے میرے لیے بڑا شاکنگ تھا یہ واقعہ مجھے آج بھی یاد ہے پھر اس کے بعد سکول میں چھٹیاں ہو گئیں۔ سکول بند ہوگئے اور پھر کئی روز بعد ہمیں پتہ چلاکہ صدر ایوب کے خلاف بھٹو نے تحریک شروع کر دی ہے ۔ پھر ہمیں پتہ چلا کہ آج صدر ایوب نے تقریر کرنی ہے ہمارا سارا خاندان اور لوگ اس تقریر کے منتظر تھے جب ایوب نے تقریر کی تو وہ ایک مایوس آدمی کی تقریر تھی اور وہ مستٰعفی ہوئے یوں اقتدار یحییٰ خان کے پاس چلا گیا۔
بعد ازاں میرے والد صاحب کا تبادلہ گوجرہ ہوجاتا ہے اور ہم وہاں چلے جاتے ہیں وہاں پر مہدی محلے کے ایک سکول ایم سی پرائمری سکول میں داخلہ لے لیاجاتا ہے جس کے ہیڈ ماسٹر عبید اللہ صاحب تھے اور جہاں سے تعلیم کا سلسلہ ٹوٹا تھا وہیں سے شروع ہو جاتا ہے یہاں ہیڈ ماسٹر صاحب کا بیٹا بھی ہمارے ساتھ ہی پڑھتا تھا جو آجکل ڈاکٹر ہے۔ وہ سکول بہت اچھا تھا ہمارے پرانے سکول سے بہتر تھا اس کی بلڈنگ اچھی تھی کلاس روم اچھے تھے وہاں جا کر لکھنے لکھانے میں نکھار آیا۔ یہاں سے پھر والد صاحب کا تبادلہ فیصل آباد شہر میں ہوگیا اور یہاں کریسنٹ ماڈل پرائمری سکول میں داخل ہوگئے اس سکول میں پانچویں تک کو ایجوکیشن تھی بڑا زبردست اور اعلی طرز تعمیر کا شاہکار تھا کریسنٹ گروپ والوں نے اس پر بہت انویسٹمنٹ کی تھی اور ایک معیاری درسگاہ کے طور پر جانا جاتا تھا۔
مجھے ہر جگہ ٹیچر بہت اچھے ملے پرائمری سکول سمندری میں صدیق صاحب تھے، عبید اللہ صاحب گوجرہ میں جبکہ کرسینٹ سکول میں میری ٹیچر مس جمیلہ تھیں ان کے والد صاحب مسلم ہائی سکول کے پرنسپل تھے بڑے وضع دار لوگ تھے اپنے طالبعلموں سے محبت کرنے والے بورڈ کے امتحانوں میں اپنے گھر بلا لیتی تھیں جہاں ان کے والد صاحب بھی ہماری مدد کیا کرتے تھے،کریسنٹ سکول کی سب سے اچھی بات جو مجھے لگی وہ وہاں کی ہم نصابی سرگرمیاں تھیں جس میں بچوں کو اپنے جوہر دکھانے کا موقع ملتا میری ہچکچاہٹ وہاں جاکر ختم ہوئی بلکہ ایک مرتبہ قرات کے مقابلے میں سورة التین کی تلاوت کی اور مجھے پہلا انعام ملا مقابلے میں میرے ساتھ جو لڑکا تھا وہ بہت اچھا تھا اس کے آواز بھی بہت اچھی تھی لیکن مجھے انعام اس لیئے ملا کہ میری الفاظ کی ادائیگی اس کے مقابلے میں بہتر تھی ۔ تعلیمی اداروں میں بچوں کی ذہنی و جسمانی نشو نما کے لےئے اس طرح کی سرگرمیاں بہت ضروری ہوتی ہیں ان سے بچوں کی ذہن کھلتے ہیں اور کھیلوں میں ان کی ذہنی اور جسمانی نشو نما ہوتی ہے۔
کریسنٹ سکول میں میری ہمشیرہ بھی میرے ساتھ پڑھتی تھیں اس وقت کے کلاس فیلو مجھے آج بھی یاد ہیں جن میں سے کئی انجنئیر بنے ڈاکٹر ہیں ایک رفاقت ہوا کرتا تھا جو آجکل ملتان میں ہے ایک دوست انگلینڈ میں ہیں۔ اور پھر یہ سکول جگہ کی تبدیلی کے باعث بدلنا پڑا بلکہ میرے والد صاحب کی خوہش تھی کہ فیصل آباد میں ایک بہت مشہور اور پرانا سکول تھا وہاں پڑھائی زیادہ اچھی تھی اور وہاں سے بچے ٹاپ بھی کرتے تھے اور جہاں ہم شفٹ ہوئے تھے اس کے قریب بھی تھا ایم سی ہائی سکول کوتوالی میں داخل ہو جاوں ۔یوں میں چھٹی جماعت میں اس سکول میں داخل ہو گیا وہاں عبدل عزیز خان ہمارے ٹیچر تھے بہت گریٹ بہت محبت کرنے والے کردار سازی ، دوسروں کے کام آنا پیار محبت اور مل جل کر رہنا دوسروں کے کام آنا جیسے سنہری اصول انہوں نے ہی ہمیں سکھائے ۔
اس سکول کے ہیڈ ماسٹر طالب صاحب تھے جنہوں نے بڑا اچھا ڈسپلن قائم کر رکھا تھا اس سکول کی بڑی اچھی یادیں ہیں ا س سکول میں کوئی تین سے چار سال رہا انیس سو اکہتر سے لیکر انیس سو 74 تک ،مڈل کا امتحان یہیں سے پاس کیا اور کلاس نہم میں میرا داخلہ کیڈٹ کالج کوہاٹ میں ہو گیا۔ یہاں کا اپنا ایک الگ تشخص تھا میری سوچ کا زاویہ بدلا بلکہ بہت کچھ تبدیل ہو گیا یہاں میرے اندر بہت زیادہ امپرومنٹ آئی یہاں کے پانچ سالوں نے میری بہت گرومنگ کی جو ٹریننگ کا میجر پارٹ ہے اس میں بہت بہتری آئی اس ٹریننگ کا بنیادی مقصد انسان کی صلاحیتوں کو جلا بخشنا ہے جس میں آپ نے رہنا کیسے ہے اٹھنا بیٹھنا معاشرے میں آپ کا کردار دوسروں کا خیال کیسے رکھنا ہے غرض ان تمام پہلوں کا احاطہ شامل ہوتا جو کسی بھی اچھے اور بہتر شہری میں ہونی چاہیں۔ جس نے جا کر معاشرے میں انسانی خدمت کے شعبے میں کام کرنا ہے اسے اعلیٰ اخلاق اور کردار کا نمونہ ہونا چاہیے۔
ہمارا جب میٹرک اک زمانہ آیا تو بھٹو صاحب کے خلاف تحریک شروع ہوگئی اور یوں ہمارے میٹرک کے امتحان لیٹ ہوگئے ہمیں چھٹیاں دے دی گئیں پھر بعد میں ہمیں واپس بلایا گیا اور میٹرک کی تیاری شروع کرا دی گئی ابھی میٹرک کے امتحان ہونے تھے کہ ہمارے کالج میں ائر فورس کی ٹیم پائلٹ کی سلیکشن کے لئے آگئی اور ہم سب اس میں اپئیر ہو گئے ہم سے کوئی دس بارہ لڑکوںکو انہوں نے آئی ایس ایس بی کے لئے سلیکٹ کر لیا اس دوران ہمارا میٹرک کا متحان ہو گیا امتحان سے فارغ ہو کر ہم گھر چلے گئے پیچھے سے آئی ایس ایس بی کا لیٹر آگیا اور ہم پھر کالج پہنچے سلیکشن کا عمل شروع ہوا جس میں سے ہم چار لوگ سلیکٹ ہوئے جس میں ہمارے کالج کے پرنسپل کا بیٹا زاہد حکیم بھی شامل تھا ایک افضل لالہ(سوات کے مشہور سیاستدان ) کا بیٹا طارق خان تھا ایک جاوید اقبال ہم چار لوگ کراچی سنٹرل میڈیکل کور پہنچے ، میں واحد لڑکا تھا جیسے پی ایف کالج سے جوائنگ کال آگئی یوں میں نے پی ایف کالج جوائن کر لیا ابھی میٹرک کا رزلٹ نہیں آیا تھالیکنان دنوں ایک سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتا تھا تاکہ داخلہ ہوسکے اس سارے عمل سے گزرنے کے بعد میں واپس گھر آگیا۔گھر آتے ہی میٹرک کا رزلٹ آگیا ،میرے والد صاحب مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے انہوں نے میرے پی ایف کالج میں داخلہ لینے کو کہا کہ تم اپنی مرضی کرنا چاہتے ہو جبکہ میں نے تمہارے بارے کچھ اور سوچ رکھا ہے۔میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی اپنے والد صاحب کے حکم سے سرتابی نہیں کی تھی میں نے ان سے کہا کہ آپ ان سے اجازت لے لیں اور جس طرح آپ چاہتے ہیں میں ویسے ہی عمل کروں گا اور پھر پتہ نہیں کیسے یہ سب کچھ ہوا کہ انہوں نے میرا ریلیز دے دیا اسے پرچیز کرنا بھی کہتے ہیں جس کا مطلب ہوتا ہے کہ جو اخراجات ہوئے ہوتے ہیں انہیں ادا کرنا ہوتا ہے۔
وہاں سے میں پھر کیڈٹ کالج چلا گیا اور وہاں سے میں نے ایف ایس سی کی اور اچھے خاصے نمبر آئے لیکن کرنا خدا کا کیا ہوا کہ جس کالج میں ہم نے داخلہ لینا تھا وہاں پہلی بار میرٹ میںا ضافہ کیا گیا یوں میں چند نمبروں سے میڈیکل کالج میں داخلہ لینے سے محروم ہوگیا پھر سوچ بچار شروع ہو گئی کہ فوج میں چلے جائیں یا ائیر فورس میں والد صاحب کہنے لگے کہ تم ساری زندگی باہر ہی رہے ہو اگریکلچر یونیورسٹی میں داخلہ لو، میں نے کہا میں لاہور چلا جاتا ہوں اور جی سی میں داخلہ لے لیتا ہوں سی ایس ایس کرتا ہوں لیکن والد صاحب کی خواہش کو مد نظر رکھتے ہوئے میں نے ایگری کلچر یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا یوں میں والدین کے سامنے سر خرو ہوا۔
درمیان میں کئی موڑ آئے آخر کا ر میں ڈاکٹر بن گیا پوسٹ گریجویشن ہوئی والدین کی خواہش پوری ہوئی پہلے میں پی سی ایس سیکشن آفیسر بنا ساتھ ہی سی ایس ایس کیا اور پولیس کو جوائن کر لیا پولیس جوائن کرنے کے حوالے سے طارق مسعود یاسین نے بڑا دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ ہم جب ایف ایس سی سے فارغ ہوے تو وہاں ہاسٹل میں ہی رہ رہے تھے کہ ہمارا ایک کلاس فیلو بہت قریبی دوست وقار عباس تھا اس سے میری بہت دوستی ہے ۔وہ آجکل آرتھوپیڈک سرجن ہے اور فن لینڈ میں ہوتا ہے اس نے مجھے کہا کہ ہمارا ایک اور دوست اعظم نور وہ بھی سرجن ڈاکٹر ہے آجکل ابو ظہبی میں ہے بہت بیمار ہے اور ہاسٹل میں نہ ہی کوئی ڈاکٹر ہے اور نہ کوئی دیگر سٹاف اسے چیک کرانا ہے اب صورت حال یہ تھی کہ وہاں کوئی ایسا بندہ نہیں تھا جس سے اجازت لی جاتی دوسری جانب اس کی حالت غیر ہو رہی تھی ہم نے پیسے ویسے اکٹھے کئے ایک سوزکی وین لی اور پرانے ڈاکٹر کا پتہ لیاا ور کوہاٹ کی طرف چل پڑئے ڈاکٹر صاحب کے پاس پہنچے توانہیں ہم نے مریض کی ساری صورت حال بتائی انہوں نے دوائی اور انجیکشن لکھ کر دئیے اور کہا واپس جاو اب کمپاونڈر آچکا ہوگا تم وہاں سے اسے انجیکشن لگوا لینا ۔ہم وہاں سے نکلے میڈیکل سٹور سے دوائیاں لیں شاپر میں ڈالی اور ریلوے سٹیشن پر پہنچے رات کا وقت تھا ہم نے راولپنڈی کے ٹکٹ لئے اور ٹرین میں سوار ہونے کے لئے آگے بڑھے تو وقار کے ہاتھ سے دوائیوں کا شاپر گر گیا اور انجکشن ٹوٹ گئے۔ اب ہم اس سوچ میں پڑ گئے کہ اب کیا کیا کیا جائے خیر ہم وہاں سے واپس ہوئے اور دوبارہ انجیکشن لئے اور پیدل چلنا شروع کر دیا تا کہ کوئی دوسری سواری مل سکے ابھی ہم کچھ دور ہی گئے تھے تو ایک سوزکی وین نظر آئی جس کا رخ اسی طرف تھا جدھر ہم نے جانا تھا ہم نے اسے روکا وہ رکی اور ہم اس میں بیٹھ گئے ہم نے سوزوکی کا جائزہ لیا آگلی سیٹوں پر ڈرائیور کے ساتھ کوئی اور بیٹھا تھا جبکہ پیچھے دو پٹھان لڑکے بیٹھے ہوئے آپس میں بات چیت کر رہے تھے کبھی اونچی آواز میں تو کبی یوں محسوس ہوتا وہ آپس میں جھگڑ رہے ہیں ہمیں تھوڑی بہت پشتو آتی تھی ہم ان کی تو تکرار سے سہمے ہوئے خاموش بیٹھے رہے کہ کہیں ان کی لڑائی کا رخ ہماری طرف نہ ہو جائے اور ہم خوا مخوہ میں پھنس جائیں ہمیں اس بات کا بھی ڈر تھا کہ ہمارا کیڈٹ کالج کا آخری سال تھا ا ور ہم کسی بھی طرح کے کانفلیکٹ سے بچنا چاہتے تھے ،خیر ہم اپنی منزل پر پہنچ کر اتر گئے اور جاکر اعظم نور کو دوائی وغیرہ دی اور وہ صحت مند بھی ہو گیا اور ہم بھی سب کچھ بھول بھال کر اپنے کاموں میں مصروف رہے کہ اتنے میں تین چار رو زکے بعد ہمارے ہاوس ماسٹر ان لڑکوں کو دھونڈ رہے تھے جو ایک رات کو باہر کالج سے باہر گئے اور واپس آگئے وہ کون ہیں ہمیں بھی اس بات کا پتہ چل گیا میں نے وقار سے بات چیت کی اور ہم نے جاکر بتا دیا کہ وہ لڑکے ہم تھے۔ ہمیں پرنسپل خطیب صاحب نے اپنے کمرے میں بلا لیا جب ہم پرنسپل صاحب کے کمرے میں پہنچے تو وہاں ہمارے ایک ٹیچر عارف ذبیح(مرحوم) بھی بیٹھے ہوئے تھے اور ایک اور بندہ پولیس کا جس کے کپتان کے رینک لگے ہوے تھے بھی موجود تھے، میں نے آرمی کے میجر تو دیکھے ہوئے تھے لیکن میں نے پہلی مرتبہ ایک ایسا بندہ دیکھا جس نے کالی وردی میں میجر کے رینک لگائے ہوئے تھے پرنسپل صاحب نے ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ ایس پی صاحب ہیں یہ آپ سے کچھ سوال پوچھیں گے آپ نے انہیں صیح صیح جواب دینا ہے۔ انہوں نے ہم سے اس رات کے حوالے سے پوچھا کہ آپ کہاں اور کیوں اور کیسے گئے تھے ہم نے انہیں پوری کہانی من وعن سنا دی پھر انہوں نے پوچھا کہ اس سوزکی وین میں جو دو لڑکے بیٹھے تھے انہیں جانتے ہو یا انہیں پہچان سکتے ہو ہم نے کہا کہ ہم انہیں جانتے تو نہیں مگر پہچان سکتے ہیں۔ بعد میں پتہ چلا کہ ان میں سے ایک لڑکا قتل ہو گیا تھا اور وہاں موجود لوگوں کی باتوں سے پتہ چلا کہ وہ پیچھے سے ہی جھگڑا کرتے آرہے تھے ، اس حوالے آپ کا بیان اس کیس میں کافی مدد دے سکتا ہے ۔
اس واقعے کے بعد ہمیں پہلی دفعہ احساس ہوا کہ پولیس میں آفیسر بھی بن سکتے ہیں تو پھر میں نے اس کے لئے جدو جہد کرنی شروع کر دی کیونکہ فوج کا تو مجھے پتہ تھا کہ اس میں کیسے جایا جاتا ہے اور پولیس میں جانے کے لئے میں نے سی ایس ایس کی تیاری کی امتحان دیا پاس ہو گیا وہاں اپنی چوائسز لکھنی ہوتی ہے کہ کس شعبے میں جانا ہے میں نے والد صاحب سے پوچھا تو ان کا خیال کچھ اور تھا میں نے والد صاحب کا کہا مانتے ہوئے چوائسز لکھ دیں۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ بعد میں دوبارہ بھی چوائیسز پوچھی جاتی ہیں میں پھر والد صاحب کے پاس گیا ور انہیں کہا ابا جی پاس تو میں ہو گیا ہوں اگرآ اجازت دیں تو میں یہ یہ چوائسز لکھ دوں آپ کی مرضی بھی ہو جائے گی اور میری بھی، تو وہ مسکرائے ا ور انہوں نے مجھے اجازت دے دی اور یوں میں پولیس میں آگیا ۔
اس کے بعد کا سفر ٹرینگ مذید ٹرینگ پوسٹٰنگ کبھی اس شہر کبھی اس شہر کراچی کے علاقے درخشاں میں بھی انڈر ٹریننگ رہے اس کے بعد مجھے ایف سی میں بھیج دیا گیا اور پہلی باقائدہ پوسٹنگ شبقدر میں ہوئی ، بعد میں مجھے پولیس میں واپس بھیجا تو میری پہلی پوسٹنگ اے ایس پی کلفٹن ہوئی، بعد میں کورنگی، فرئیر میں بھی رہا ۔بعد ازاں میں یو این موزمبیق میں چلا گیاآٹھ نو مہینوں کے لئے یہاں مجھے بہت اچھے پیسے ملے تو احساس ہو کہ حلال کی کمائی میں کتنی برکت ہوتی ہے میرا بہت اچھا گزارہ ہوتا رہا۔
وہاں سے پھر واپس آیا تو ایس پی کلفٹن لگا دیا گیا لیکن میرے والد صاحب نے کہا کہ اب تم واپس پنجاب آو ،وہ بوڑھے بھی ہو چکے تھے میں نے درخواست دے دی اور یوں میرا تبادلہ پنجاب میں ہو گیا۔ میں سمجھتا ہوں والد صاحب کی اطاعت کا پھل اللہ نے مجھے بہت زیادہ دیا۔ پنجاب میں آتے ہی ایس پی جھنگ اور بعد میں پروموشن ہوئی توایس پی ٹریفک راولپنڈی تعیناتی ہوگئی۔ حالانکہ میرا دل کراچی میں لگ چکا تھا ایک بہت اچھا ترقی یافتہ شہر تھا والد صاحب کی اطاعت کرتے ہوئے میں نے اپنی خواہشوں کو قربان کر دیا بلکہ میرے بعد جو ایس پی کلفٹن آئے ان دنوں میر مرتضی کا واقعہ ہو گیا ور وہ اس میں الجھ گئے اگر وہاں اس وقت کوئی بھی ہوتا اس کے ساتھ ایسا ہی ہونا تھا لیکن مجھے میرے والد کی اطاعت فرماں برداری اور خدمت نے ہمیشہ محفوظ و مامون رکھا۔
جناب طارق مسعود یاسین صاحب کی زندگی کے کئی پہلی تشنہ رہ گئے ہیں لیکن ان کی سکول لائف اور عملی زندگی میں آج کے طلباءکے لئے کئی اسباق ہیں جس میں سر فہرست تو والدین کی طاعت،فرماں برداری اور خدمت ہے ۔
آخر میں سکول لائف کے اس سوال پر کہ آج کے طابعلم کو کیا ایسا کرنا چاہیے کہ وہ بھی دوسروں کے لئے مشعل راہ بننے کے ساتھ کامیابی کی منازل طے کر سکے کا جواب دیتے ہوئے طارق مسعود یٰسین نے کہا کہ سب سے پہلی تریبت تو انسان کی گھر سے ہوتی ہے اس کے بعد سکول اور استائذہ بچے کی زندگی میں نکھار پیدا کرتے ہیں انہیں کامیابی کی منازل طے کرنی ہیں تو والدین کی عزت، احترام فرماں داری کے ساتھ خدمت کے جذبوں کو کبھی مرنے نہ دیں اور استائذہ کاحترام اور عزت کے بغیر آپ ایک اچھے انسان نہیں بن سکتے اس کے ساتھ ہی انتھک محنت اپنے ہدف پر نظر رکھتے ہوئے اس کے حصول کی لئے کوشش بار بار کوشش بچوں کو اس بات کا پتہ ہونا چاہیے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت نہ ہو تو تعلیم کسی کام کی نہیں اس لئے تربیت کے تمام پہلووں کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لیں اپنی شخصیت کو بنانے میں آپ کااپنا کردار ہے اگر اپ کی پرسنلٹی اچھی ہو گی تو لوگ آپ سے متاثر ہوں گے اور پرسنالٹی میں آپ کے کردار کا بڑا اہم رول ہو تا ہے۔
میری کامیابی کے پیچھے تو میرے والدین کی دعائیں اور خدمت ہے۔ اسے ہی آپ کامیابی کی کنجی سمجھیں اورآگے بڑھتے جائیں کبھی ناکام نہیں ہوں گے۔ دوسروں کاساتھ دینے والے بنیں لینے والے نہیں یہ تربیت کا بہت اہم حصہ ہے اپنی چیزیں دوسروں کے ساتھ شئیر کر کے خو دغرضی کے لیبل سے بچیں ،دینے والا ہاتھ ہمیشہ بڑا ہوتا ہے، اس سے محبت اور دوستوں کی تعداد بڑھتی ہے ۔جب خود غرضی ختم ہوتی ہے تو آپ محبت کرنے والوں میں آجاتے ہیں اور محبت کرنے والا کبھی جھوٹ نہیں بول سکتا کیونکہ جب آپ محبت کرتے ہو تو اپنے اللہ سے بھی محبت کرتے ہو اور اللہ سے محبت کرنے والا اس کی مخلوق سے محبت کئے بنا رہ ہی نہیں سکتا اور جھوٹ نہیں بول سکتا۔جہاں مرضی جس مرضی عہدے پر پہنچ جائیں رزق حلال کو اولین ترجیح دیں اس میں بہت برکت اور سکون ہے، اللہ کو تکبر پسند نہیں ہے جھوٹ سے بچو اور سچ بولو دوسروں کا خیال رکھو یہ باتیں انسان کی تربیت کا اہم حصہ ہونی چاہیں۔
ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اپنی زندگی سے مطمن ہیں ؟ کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہ میں اپنے کیرئیر کے لاسٹ پارٹ میں ہوں لیکن میں یہ کہ سکتا ہوں کہ میں حد سے زیادہ مطمن ہوں ہم نے اپنے ملک اور عوام سے محبت کی اور کچھ نہ کچھ دینے کی کوشش کی اگر مجھے دوبارہ بھی کبھی موقع ملا تو میں اسی پولیس کا ہی جوائن کروں گا کیونکہ میں سمجھتا ہوں جتنی عوام کی خدمت انسان اس شعبے میں کرسکتا ہے وہ کسی اور میں نہیں۔